کئی ماہ عدالتی فیصلے محفوظ رکھنے، سنانے سے قبل لیک ہونے کیخلاف بڑا فیصلہ

آئینی عدالت نے مقررہ مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا، عدالت کے مطابق ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلہ 90 دن میں سنانے کی پابند ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر ہی کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے رولز قوانین کا درجہ رکھتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج بھی بھگتنا ہوتے ہیں۔

آئینی عدالت کے مطابق بینچ ممبران کا جانے انجانے میں سنائے جانے سے قبل فیصلہ لیک کرنا رولز کیخلاف ہے، تمام ججز اور عدالتی عملہ رولز پر عملدرآمد کا مکمل پابند ہے، بینچ کا سربراہ قبل از وقت فیصلہ یا اس کے نکات لیک ہونے پر ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے۔

عدالت کے مطابق مقدمہ کی ازسرنو سماعت فیصلہ محفوظ کرنے والا یا کوئی دوسرا بینچ بھی کر سکتا ہے، ہائی کورٹس میں ایسا معاملہ چیف جسٹس جبکہ سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔

آئینی عدالتی کے مطابق زیرالتوا مقدمات کا بوجھ ہو تو انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے، کچھ عرصے سے فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق عدالتی فیصلہ آنے تک فریقین اپنے حقوق ملنے کا طویل انتظار کرتے رہتے ہیں، فیصلہ محفوظ ججز کے کسی نتیجہ پر متفق نہ ہونے یا پیچیدہ قانونی نکات ہونے پر کیا جاتا ہے۔

عدالت کے مطابق موجودہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ دس ماہ کے بعد سنایا، وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کی اپیل نمٹا دی، آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی آبزرویشنز حذف کر دیں۔

عدالت کے مطابق شپنگ کارپوریشن نے پنشن کی ادائیگی کے کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کیا تھا، عدالت نے فیصلہ عملدرآمد کیلئے تمام ہائی کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیا، جسٹس عامر فاروق نے سات صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے