ایرانی وزیرِ خارجہ کا دورۂ چین، عالمی کشیدگی کے دوران سفارتی سرگرمیاں تیز

Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi visits Pakistan, important diplomatic activities expected

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی آج اہم سفارتی دورے پر چین روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات سمیت خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں ایران اور چین کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی سیکیورٹی کے دیگر اہم امور بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور عالمی طاقتیں سفارتی راستوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چین، جو ایران کا ایک اہم معاشی و اسٹریٹجک شراکت دار سمجھا جاتا ہے، اس بحران میں ممکنہ ثالثی کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تصادم کے بجائے تعاون زیادہ سودمند ہے۔ ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط قائم ہو رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے