نیوزی لینڈ نے شہریت حاصل کرنے کے خواہشمند تارکین وطن کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 2027 سے باضابطہ ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا ہے، جس کا مقصد نئے شہریوں کو ملکی نظام اور بنیادی اقدار سے آگاہ کرنا ہے۔
ملک کے وزیر داخلہ Brooke van Velden کے مطابق یہ امتحان ذاتی طور پر لیا جائے گا اور انگریزی زبان میں 20 کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل ہوگا، جن میں سے کم از کم 15 درست جواب دینا پاس ہونے کے لیے ضروری ہوگا۔
اس ٹیسٹ میں اہم قومی اور سماجی موضوعات شامل ہوں گے، جن میں New Zealand Bill of Rights Act 1990، انسانی حقوق، جمہوری اصول، ووٹنگ کے حقوق، حکومتی ڈھانچہ، اور کچھ مجرمانہ قوانین سے متعلق بنیادی معلومات شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ امیدواروں کو نیوزی لینڈ کے معاشرتی اقدار اور شہری ذمہ داریوں کی بھی سمجھ ہونی چاہیے۔
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ شہریت صرف ایک قانونی حیثیت نہیں بلکہ ذمہ داریوں اور مراعات کا مجموعہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نئے شہری ملک کے بنیادی اصولوں جیسے آزادی اظہار اور قانون کی بالادستی کو سمجھیں۔
فی الحال درخواست دہندگان کو صرف ایک اعلامیہ پر دستخط کرنا ہوتا ہے، تاہم نئی پالیسی کے تحت باضابطہ امتحان کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ امیدوار واقعی ان اقدار سے آگاہ ہیں۔
حکام کے مطابق اس ٹیسٹ کی مزید تفصیلات پر کام جاری ہے اور اسے 2027 کے دوسرے نصف میں نافذ کیا جائے گا، جسے امیگریشن پالیسی میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
