ایران نے اقوام متحدہ سے امریکی و بحرینی قرارداد مسترد کرنے کا مطالبہ کر دیا

Iran appeals to the United Nations, calling the US action “piracy.”

تہران – اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق امریکا اور بحرین کی مشترکہ قرارداد کو مسترد کر دیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ مجوزہ قرارداد یک طرفہ، سیاسی طور پر متاثر اور سنگین خامیوں پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد بحری آمد و رفت کی آزادی کو یقینی بنانا نہیں بلکہ خلیج فارس میں ایران کے خلاف امریکی اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے۔

ایرانی مندوب نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں موجودہ کشیدگی کی اصل وجہ امریکا کی پالیسیاں ہیں، جن کے باعث صورتحال بگڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف عائد الزامات بے بنیاد ہیں اور قرارداد میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے مسئلے کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب جنگی کیفیت ختم ہو، غیر قانونی پابندیاں اور بحری رکاوٹیں ہٹا دی جائیں اور معمول کی تجارتی و بحری سرگرمیوں کی بحالی یقینی بنائی جائے۔

ایرانی مندوب نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو خبردار کیا کہ ایسی قراردادوں کی منظوری ادارے کی غیر جانبداری اور ساکھ کو متاثر کرے گی۔ ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران بحری آمد و رفت کی آزادی اور عام تجارت کی بحالی کا حامی ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں موجود کشیدگی اور عسکری کارروائیاں مکمل طور پر ختم کی جائیں۔

ادھر امریکا اور بحرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں ایران سے آبنائے ہرمز میں مبینہ حملے روکنے اور بحری آمد و رفت سے متعلق اقدامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم ایران نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے