امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان کی درخواست پر کیا تھا۔
چین کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ایران کے ساتھ جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے، تاہم پاکستان سمیت کئی ممالک کی سفارتی اپیلوں کے بعد امریکا نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملے کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو تقریباً تباہ کر دیا تھا، تاہم ایک ماہ کی جنگ بندی کے دوران ایران نے کچھ حد تک اپنی پوزیشن بحال کی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا دوبارہ کارروائی کرتے ہوئے ’’کلیئر اپ ورک‘‘ بھی کر سکتا ہے۔
دوسری جانب Iran نے امریکی بیانات کو ’’نفسیاتی حربے‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر برقرار ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں Pakistan، Saudi Arabia، Turkey اور Qatar نے پس پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو ممکن بنانے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔
