ایرانی سپریم لیڈر نے افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل نہ کرنے کا حکم جاری کر دیا

War criminals' threats and cries of destruction reveal their desperation, says Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei

ایرانی سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei نے اعلیٰ افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل نہ کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، جس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی قیادت کے اس فیصلے کے بعد تہران کا مؤقف مزید سخت ہو گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا، اسرائیل و ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کرنے کی صورت میں ایران اسٹریٹجک طور پر کمزور ہو سکتا ہے جبکہ بعض حلقے موجودہ جنگ بندی کو امریکا کی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے ایران کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں تقریباً 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرنے، 3.67 فیصد تک یورینیم افزودگی کی اجازت اور محدود مدت کے لیے ایرانی تیل کی فروخت میں نرمی شامل ہے۔

ایرانی سیاسی مبصر Ali Golhaki کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں میں نرمی اور جوہری اقدامات سے متعلق تمام معاملات پر بیک وقت اتفاق کیا جائے۔

تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ پہلے ان اقدامات پر تقریباً 30 دن کے اندر عملی پیش رفت اور اس کی تصدیق ہونی چاہیے، جس کے بعد ہی جوہری مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

ادھر Marco Rubio نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے “کچھ مثبت آثار” موجود ہیں۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکام تہران کا دورہ کر رہے ہیں اور امید ہے کہ اس سے مذاکراتی عمل میں پیش رفت ہو سکے گی۔

مارکو روبیو کے مطابق امریکی صدر Donald Trump کی ترجیح ایک “اچھا معاہدہ” ہے، تاہم اگر مناسب معاہدہ نہ ہو سکا تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے