کوئٹہ میں عید کی خوشیوں میں مگن نہتے شہریوں، معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا کر فتنۂ ہندوستان بھارتی پراکسیز بشمول بی ایل اے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا نام نہاد "حقوق” یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ صرف غیر ملکی پیسے پر پلنے والے خونخوار کرائے کے قاتل ہیں۔ اپنی سفارتی تنہائی، گرتی معیشت اور عالمی سطح پر ذلت کا بدلہ لینے کے لیے بھارت نے ان بزدل دہشت گردوں کے ذریعے عید کے لیے سفر کرنے والے معصوم بلوچ خاندانوں کے خون سے ہولی کھیلی، جس میں پوری کی پوری بلوچ فیملیز ملبے تلے دفن ہو گئیں۔ خواتین اور بچوں پر حملہ کر کے ان ضمیر فروشوں نے نہ صرف انسانیت کا قتل کیا بلکہ غیرت اور مہمان نوازی پر مبنی پاکیزہ بلوچ روایات کا بھی جنازہ نکال دیا؛ لیکن یاد رہے کہ حب الوطن بلوچ عوام اور پاکستان کی مسلح افواج مل کر بیرونی اشاروں پر ناچنے والے اس فتنۂ کرپشن و دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور معصوموں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔
فتنۂ ہندوستان کا سفاک چہرہ: معصوم بلوچ خواتین اور بچوں کا قتلِ عام بلوچ روایات اور انسانیت پر بزدلانہ وار
