فلسطینی ریاست کے “ناقابل واپسی راستے” کے بغیر اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں، سعودی مؤقف برقرار

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 18 نومبر کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے

سعودی عرب نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے “ناقابل واپسی راستہ” طے کیے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے جا سکتے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سعودی ذریعے نے یہ مؤقف ایسے وقت میں دہرایا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک پر زور دیا کہ وہ ابراہیم معاہدے میں شامل ہوں۔

ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر، مصر، اردن، ترکی اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ امریکی معاہدے سے قبل فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل کا حصہ بنیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کو ابراہیم معاہدے کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی تصور کرتی رہی ہے۔ تاہم حماس کے خلاف غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بعد یہ کوششیں شدید متاثر ہوئیں۔

سعودی قیادت نے گزشتہ مہینوں کے دوران متعدد بار اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا انحصار فلسطینی مسئلے کے “حقیقی اور بامعنی حل” پر ہوگا، جس میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی واضح پیشرفت شامل ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے