جنوبی ایران میں امریکی حملے، تہران کا 4 ہلاکتوں کا دعویٰ، سیز فائر برقرار رکھنے پر زور

امریکہ کی فوج نے جنوبی ایران میں متعدد اہداف پر حملے کیے ہیں، جن کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں۔ دوسری جانب تہران نے ان حملوں میں چار افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں اور راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ اقدامات “ایرانی افواج سے لاحق خطرات کے مقابلے میں امریکی افواج کے تحفظ” کے لیے کیے گئے۔

سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق:“امریکی افواج واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری نازک سیز فائر کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہی ہیں۔”

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق امریکی حملے جزیرہ لارک کے جنوب میں موجود کشتیوں پر کیے گئے، جن کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوئے۔

اس سے قبل ایرانی میڈیا نے بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق بندر عباس میں تین دھماکے سنے گئے، جبکہ فارس نیوز ایجنسی نے سیریک اور جاسک کے قریب بھی اسی نوعیت کی آوازوں کی تصدیق کی۔

بعد ازاں مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ بندر عباس میں صورتحال قابو میں ہے اور دھماکوں کی آوازیں “دفاعی سرگرمیوں” کا نتیجہ تھیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے پیر کی علی الصبح خلیجی حدود میں ایک “دشمن ڈرون” بھی تباہ کیا۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ حالیہ حملوں کا مقصد جاری سیز فائر کو ختم کرنا نہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے فاکس نیوز کو بتایا کہ دو کشتیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ بندر عباس میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ایک ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ امریکی جنگی طیاروں کو ہدف بنا رہا تھا۔

ایک اور امریکی اہلکار نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ یہ کارروائیاں “ردعمل اور دفاعی نوعیت” کی تھیں، نہ کہ کسی بڑے حملے کا حصہ۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے