افزودہ یورینیم پر ٹرمپ کے بیان کے بعد ایرانی سفارتخانوں کا سخت ردعمل

کسی بھی حملے کو ہمہ گیر جنگ تصور کیا جائے گا: ایرانی سینئر اہلکار کی سخت وارننگ

ایران کے مختلف سفارتی مشنز نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کسی صورت امریکہ کے حوالے نہیں کرے گا۔

ایرانی سفارتخانہ گھانا نے اپنے ردعمل میں کہا: “افزودہ یورینیم گھر میں ہے اور گھر میں ہی رہے گی۔”

اسی طرح ایرانی سفارتخانہ کینیا نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اب بھی “نیوکلیئر ڈسٹ” کے تصور کے وہم میں مبتلا ہیں۔ سفارتخانے کے بیان میں امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا: “پچھلی بار جب آپ نے اصفحان سے نیوکلیئر ڈسٹ نکالنے کی کوشش کی تھی تو آپ نے اپنے 10 سے 12 فوجی طیارے گنوائے تھے جن کی مالیت سیکڑوں ملین ڈالر تھی۔”

ادھر ایرانی قونصل خانہ حیدرآباد نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران نے یورینیم امریکا کے حوالے کرنا ہوتا تو وہ جنگ سے بہت پہلے ایسا کرچکا ہوتا۔

قونصل خانے کے مطابق: “اگر امریکا جنگ کے ذریعے یہ حاصل کرسکتا تو اب تک لے چکا ہوتا۔ اب آپ صرف اپنے ٹوٹے خواب دہرا سکتے ہیں۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ صورتحال “غلط فہمی کا شکار جنگی مجرم دوست” پر اعتماد کرنے کی قیمت ہے۔

یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کو افزودہ یورینیم یا تو امریکا کے حوالے کرنا ہوگا یا بین الاقوامی نگرانی میں کسی تیسرے مقام پر تباہ کرنا ہوگا۔ اس بیان کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے