اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے کوئٹہ کے قریب ٹرین پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس “قابلِ نفرت” حملے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سلامتی کونسل کے 15 اراکین کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ حملے میں کم از کم 14 پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
بیان میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ اس کے مجید بریگیڈ نے کیا۔
سلامتی کونسل کے اراکین نے متاثرہ خاندانوں، پاکستان کی حکومت اور عوام سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، اس لیے حملوں کے منصوبہ سازوں، معاونت کرنے والوں، مالی مدد فراہم کرنے والوں اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔
سلامتی کونسل نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی انسانی حقوق، مہاجرین اور انسانی ہمدردی کے قوانین کے مطابق دہشت گردی سے پیدا ہونے والے عالمی امن و سلامتی کے خطرات کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کیا جائے گا۔
