ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ نے کہا ہے کہ ایران کے مخالفین میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، جس کے بعد وہ اب ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے، مایوسی پھیلانے اور ملک کے اندر اختلافات پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اپنے ایک تحریری پیغام میں مجتبیٰ خامنہ نے کہا کہ دشمن کو جنگی محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب وہ ہائبرڈ جنگ کے مختلف طریقوں کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مخالف قوتیں ایرانی عوام کے حوصلے پست کرنے اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہی ہیں، تاہم ایرانی قوم کو ان سازشوں کے حوالے سے مکمل طور پر باخبر اور محتاط رہنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عوام میں ناامیدی، مایوسی اور بداعتمادی پیدا کرنے والا ہر عمل دراصل دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ماضی میں بھی بیرونی سازشوں اور خفیہ منصوبوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور ملک دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ نے دعویٰ کیا کہ ایران سی آئی اے سمیت مختلف غیر ملکی اداروں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے، جس کے باعث مخالف قوتوں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی توجہ اب براہِ راست فوجی محاذ کے بجائے نفسیاتی اور معلوماتی جنگ پر مرکوز ہو چکی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اسرائیل کے حوالے سے اپنے ملک کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سے متعلق ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے خطے میں ایک فوجی اڈہ قائم کر رکھا ہے جسے اسرائیل کا نام دیا گیا ہے، جبکہ ایران اپنے اصولی مؤقف پر بدستور قائم رہے گا۔
