چین کے صدر شی جن پنگ پیر کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر شمالی کوریا پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور دونوں ممالک نے اپنی ’’ناقابلِ شکست دوستی‘‘ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق شی جن پنگ کا یہ 2019 کے بعد شمالی کوریا کا پہلا دورہ ہے اور رواں سال ان کا پہلا غیر ملکی سرکاری دورہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ پیانگ یانگ ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، جہاں سرخ قالین بچھایا گیا جبکہ چینی اور شمالی کوریائی پرچموں سے فضا کو سجایا گیا تھا۔
ایئرپورٹ پر آویزاں بڑے بینرز پر چینی صدر کو خوش آمدید کہا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی کو ’’ناقابلِ شکست‘‘ قرار دیا گیا۔ شمالی کوریا کی قیادت نے اس دورے کو دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔
شی جن پنگ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انہوں نے حال ہی میں بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں۔ مبصرین کے مطابق اس دورے کا مقصد نہ صرف چین اور شمالی کوریا کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے بلکہ خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں مشترکہ حکمت عملی کو بھی فروغ دینا ہے۔
دورے سے ایک روز قبل شمالی کوریا کے سرکاری اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے لکھا کہ حالات جیسے بھی ہوں، چین اور شمالی کوریا کی روایتی دوستی ہمیشہ قائم اور مضبوط رہے گی۔
دوسری جانب شمالی کوریا کی بااثر رہنما اور کم جونگ اُن کی بہن نے واضح کیا ہے کہ ملک کا جوہری پروگرام ’’ناقابلِ واپسی‘‘ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا اور چین نے حالیہ سفارتی رابطوں میں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے ہدف کا ذکر کیا تھا۔
