امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران نے کم از کم ایک ہفتے تک ایک دوسرے کے خلاف کوئی نئی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں عارضی کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ تفصیلی اور مثبت بات چیت ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ ان کے بقول حالیہ رابطوں نے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو پر حملہ ہوا تھا جس کے جواب میں اسرائیل نے کارروائی کی، اور وہ اس ردعمل پر اسرائیلی قیادت کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب دونوں فریق اپنی عسکری سرگرمیوں کو روک چکے ہیں اور تقریباً ایک ہفتے یا اس کے قریب عرصے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف کوئی اقدام نہیں کریں گے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات پر بھی اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا ایک ایسے معاہدے کے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور فریقین اہم نکات پر پیش رفت حاصل کر چکے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق مجوزہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حوالے سے موجود رکاوٹیں ختم ہو جائیں گی اور یہ اہم آبی گزرگاہ فوری طور پر مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ آئندہ دو سے تین دن میں طے پانے کا امکان رکھتا ہے۔
