مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔ تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے کل تک انتظار کریں۔

اسلام آباد میں قومی اقتصادی سروے پیش کرتے وقت وزیر خزانہ محمداورنگزیب نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معشیت متاثر ہوئی۔

محمداورنگزیب نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ عالمی سطح پر بےیقینی کی وجہ سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکالگا، مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔ اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہترین کارکردگی دکھائی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، فوڈ، ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا۔ سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوا، کھاد کی طلب میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصدرہی، ڈیری اور لائیو اسٹاک کازرعی معیشت میں حصہ 60 فیصد ہے، معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ سیمنٹ اور شوگر سے 60ارب کا اضافی ریونیو ملا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک پر قرض جی ڈی پی کا 68 فیصد ہے، ٹیکس میں ریفارمز پر ہمیشہ بات ہوتی  ہے، ہم نے ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم بنایا ہے، ہاؤسنگ سیکٹر میں اینڈ ریٹ دس سال کیلئے مقرر ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران زرعی قرضوں میں 22فیصد اضافہ ہوا، چھوٹے کسانوں کیخلاف زرخیزی اسیکم لارہے ہیں، کم آمدن ہاؤسنگ کو 90ارب روپے کی منظوری ہوچکی، ڈیجیٹل آڈٹ کے سسٹم سے 34ارب کا ریونیو ملا، اس وقت مرچنٹس کی تعداد 17لاکھ تک پہنچ چکی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ برآمدات میں کمی کی دو بڑی وجوہات ہیں، چاول کی برآمدات اس سال ایک ارب ڈالر سے کم رہیں، چینی کی ایکسپورٹ میں بھی کمی آئی ہے، جہاں ویلیو ایڈیشن کی گئی وہاں برآمدت بڑھیں، اس سال بھی فیفا ورلڈکپ میں پاکستانی فٹبال استعمال ہوں گے، فٹبال کی ایکسپورٹ میں 18فیصد اضافہ ہوا ہے۔

فری لانسر کی برآمدات اس سال 90کروڑ ڈالر رہیں، زرمبادلہ کے ذخائر 17ارب 10 کروڑ ڈالر ہیں، ہمارا ہدف 18ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر کا ہے، 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں، رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ سے زیادہ ہوچکی۔ لسٹڈ کمپنیوں کے منافع میں 22فیصد اضافہ ہوا ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ صنعتوں کو اپ گریڈیشن کی طرف جانا ہوگا، مقامی صنعت کار ہوں گے تو بیرونی سرمایہ کار آئیں گے، پی آئی اے کی نجکاری میں 60کروڑ ڈالر سرمایہ کاری ہوئی، ٹیلی کام اور انرجی سیکٹر کی کمپنیاں گئی بھی ہیں اور آئی بھی ہیں، فائیو جی اسپیکٹرم اکشن میں غیر ملکی کمپنیوں نے حصہ لیا۔

وزیر خزانہ کے مطابق رواں سال مالی خسارہ جی ڈی پی کا 0.7فیصد رہا، خسارے پر قابو پاچکے،جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72ملین ڈالر سرپلس رہا، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے،بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں اہم کردار ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی یہ ترسیلات زر بھیجتے ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سیمنٹ کی طلب 10،پیٹرول 5 اور کھاد کی 17فیصد بڑھی، خدمات میں گروتھ 4.9فیصد،ٹیلی کام میں 7.5فیصد رہی، جی ڈی پی میں سرمایہ کاری کا شیئر بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں، توانائی کی لاگت کم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، صنعتوں کی کراس سبسڈی ختم کردی گئی ہے، اس سال 3 ڈسکوز کی نجکاری ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس شارٹ فال ایک حقیقت ہے، ٹیکس وصولی 7 ہزار ارب سے 13ہزار ارب تک پہنچائی، ایف بی آر میں سفارش ختم کی،ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا، انسانی مداخلت کم سے کم کرنے سے ہی کرپشن رکے گی۔

مشکل معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنےآنا شروع ہوگئے، ملک میں شرح خواندگی 63 فیصد ہوگئی۔ بحران میں کوشش کی کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت نہ ہو۔ ہماری قیادت خطے کا تنازع ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تنازع ختم بھی ہوگیا مگر اثرات آئندہ سال تک جاری رہیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے