ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو روکنا اور حالیہ جنگ بندی فریم ورک پر عمل درآمد یقینی بنانا امریکا کی ذمہ داری ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق عباس عراقچی نے پیر کے روز ترکیہ، مصر اور عراق کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور ایران و امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر زور دیا کہ لبنان پر اسرائیل کے تمام حملے اور فوجی کارروائیاں فوری اور مکمل طور پر بند ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا ضروری ہے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی پیدا نہ ہو۔
عباس عراقچی نے کہا کہ اس فریم ورک پر عمل درآمد کی بنیادی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ واشنگٹن خطے میں جاری سفارتی عمل اور معاہدے کی پیش رفت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع Yisrael Katz نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان، شام اور غزہ کے سکیورٹی زونز سے انخلا نہیں کریں گی اور غیر معینہ مدت تک وہاں موجود رہیں گی۔ اس اعلان نے خطے میں مستقبل کی سکیورٹی صورتحال اور جنگ بندی کے امکانات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
