چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ مکمل طور پر محفوظ ہے، آزادکشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل نکلنا چاہیے، ایران امریکا معاہدے سے امن آئے گا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ مکمل طور پر محفوظ ہے، صوبوں کو پیسہ سرپلس دکھانے کا کہا جاتا ہے، ملکی معیشت کو بچانے کیلئے صوبے قربانی دے رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بجٹ سے پہلے 18ویں ترمیم کے خاتمے سے متعلق افواہیں پھیلائی گئیں، بی آئی ایس پی کے خاتمے کی بھی باتیں ہوئیں،افواہیں پھیلائی گئیں، بی آئی ایس پی کو ٹارگٹ کرنا افسوسناک اور شرمناک ہے، غربت کے خاتمے کیلئے بی آئی ایس پی کو مزید بڑھایا جائے۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ بی آئی ایس پی میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی لی جارہی ہے لیکن صوبوں کو کچھ نہیں دیا جارہا، حکومت کے ساتھ طے کیا قومی دفاع کیلئے اپنا حصہ ڈالیں گے، معاشی ترقی کا فائدہ عوام کو ملنا چاہیے، سیاسی اتفاق رائے کے ساتھ ہم تمام مسائل کا سامنا کرسکتے ہیں، وفاقی حکومت کی معاشی مشکلات ہیں تو صوبوں کی بھی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کی خلاف ورزی ہے، پیٹرولیم لیوی کا پیسہ صوبے میں بانٹنے کے بجائے صرف وفاق رکھتا ہے، پیٹرولیم لیوی اور گیس لیوی کا حصہ صوبوں کو نہیں دیا جارہا، صوبوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے،بلاول بھٹو
بلاول بھٹو کے مطابق ہر سال صوبوں سے کہا جاتا ہے کہ بجٹ میں سر پلس دکھائیں، پنجاب اس حوالے سے سب سے زیادہ قربانی دے رہا ہے، پیسہ صوبہ پنجاب کا حق ہے جو جنوبی پنجاب میں خرچ کیا جاسکتا ہے، ملکی معیشت کو بچانے کیلئے پنجاب پیسہ وفاق کو دے رہا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ سندھ نے گزشتہ سال 300 ارب اور رواں سال 400 ارب وفاق کو دیا، سندھ کا پیسہ لیاری، کورنگی، لاڑکانہ اور نوابشاہ میں خرچ ہوسکتا تھا، کے پی کی اپنی مشکلات ہیں،وہ سرپلس بھی دکھا رہے ہیں، قبائلی علاقے کے پی میں ضم ہوئے، وہاں دہشتگردی بڑھی، اس بجٹ میں قبائلی علاقوں کو ٹیکس ریلیف دینے میں ناکام رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی اپنی مشکلات ہیں جو سب کے سامنے ہیں، کے پی نے بھی قومی مفاد میں اپنا حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا، پی ٹی آئی کے قومی مفاد میں حصہ ڈالنے کے فیصلے کو ویلکم کرتا ہوں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آزادکشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل نکلنا چاہیے، آزادکشمیر میں قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف ایکشن لینا ہوگا، آزادکشمیرمیں سڑکوں کے بجائے پارلیمان میں حل نکلناچاہیے، کسی کوکشمیرکازکونقصان پہنچانےکی اجازت نہیں دی جائےگی، جو لوگ آزادکشمیرمیں دھرنا دیئے ہوئے ہیں وہ احتجاج ختم کردیں۔ آزادکشمیر کے عوام کو بھارتی سازش کانشانہ نہیں بننے دیں گے، کشمیرکےعوام خودکو انتشار کی سیاست کرنے والوں سے الگ کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا پیپلز پارٹی پر اعتماد کرنے پر شکر گزار ہوں، جی بی کے عوام نے پیپلز پارٹی کو واضح برتری سے 11 سیٹیں دلوائی ہیں۔ جی بی کے ہر ڈویژن سے پیپلز پارٹی کے نمائندے کو منتخب کیا گیا، گلگت بلتستان کے عوام سے ہمارا 3 نسلوں کا رشتہ ہے۔
