انسانی امداد تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالنا اسرائیلی پالیسی کا دہرایا جانے والا طرزعمل بن چکا ہے،عاصم افتخار

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالنا اسرائیلی پالیسی کا ایک مسلسل اور دہرایا جانے والا طرزعمل بن چکا ہے۔

سلامتی کونسل کی ہنگامی اجلاس سے خطاب میں عاصم افتخار نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے، شہری آبادی مسلسل شدید مصائب برداشت کررہی ہے، 20 لاکھ افراد اب بھی انتہائی کٹھن اور ناگفتہ بہ حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ غزہ کی 90 فیصد سے زائد آبادی بے گھر ہو چکی ہے، نصف اسپتال جزوی طور پر فعال ہیں، شدید بھوک اورغذائی عدم تحفظ لاکھوں افراد کو متاثر کررہا ہے، روزانہ فراہم کیے جانے والے کھانوں کی تعداد 15 لاکھ سے کم ہو کر 6 لاکھ 78 ہزار رہ گئی ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ آبادی کے غیرمعمولی ہجوم اور ناقص صفائی کی صورتحال بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے، 10 لاکھ سے زائد بچے بے دخلی، غذائی قلت، صحت و تعلیم کی سہولیات سے محرومی کا سامنا کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مسئلہ انسانی امداد تک رسائی میں من مانے انداز سے رکاوٹیں ڈالنا اور تاخیر پیدا کرنا ہے، یہ اسرائیلی پالیسی کا ایک مسلسل اور دہرایا جانے والا طرزعمل بن چکا ہے۔

عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ انسانی امداد تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالنا بین الاقوامی قانون کے تحت قابض طاقت کی ذمہ داریوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے، یہ غیر قانونی اقدامات شہری آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں، یہ اقوام متحدہ کے منشور، غزہ امن منصوبے، کونسل قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کےمترادف ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے