آزادکشمیرکے شہریوں نے اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کا غریب اور متوسط طبقہ کالعدم کمیٹی کے بیرونی ایجنڈے کی قیمت ادا کرنے پرمجبور ہے، شرپسند عناصر اپنے ذاتی مفاد کیلئے ریاست کا ماحول خراب کررہے ہیں، تاہم ریاست اپنی رٹ قائم کرے۔
قانون سازاسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں کے مسئلے کا واحد حل آئینی ترمیم ہے، ریاست کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے شرپسندوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے، آزادکشمیر کے عوام کا پاکستان اور پاکستانیوں سے لازوال وابستگی پرمبنی رشتہ قائم ہے۔
ماہرین کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی کی تخریبی اورعوام دشمن سرگرمیوں سے اس انتشاری ٹولے کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے، بھارتی ایماء پرسرگرم کالعدم ایکشن کمیٹی پر حکومتی پابندی کے فیصلے کو تمام طبقات کی طرف سے تائید حاصل ہورہی ہے۔
