سربیا میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز 2024 کے اس حادثے کے بعد ہوا تھا جب نوی ساد ریلوے اسٹیشن پر ایک سایہ دار چھت گرنے سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ یہ حادثہ حکومت کی ناقص پالیسیوں، تعمیراتی منصوبوں میں بدعنوانی اور انتظامی بدحالی کا نتیجہ تھا۔ اسی واقعے نے ملک بھر میں حکومت مخالف جذبات کو ہوا دی اور دیکھتے ہی دیکھتے احتجاجی تحریک پورے سربیا میں پھیل گئی۔
ہفتے کے روز نوی ساد میں شدید گرمی کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے "فتح” کے نعرے لگائے اور صدر الیگزینڈر ووچیچ اور ان کی جماعت سربین پروگریسو پارٹی (SNS) کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ متعدد شرکاء نے "طلبہ جیت رہے ہیں” کے نعرے درج ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جبکہ بینرز اور جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔
طلبہ تحریک سے وابستہ کارکنان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد آنے والے انتخابات میں صدر ووچیچ اور ان کی جماعت کو چیلنج کرنا ہے۔ اگرچہ سربیا میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات 2027 میں شیڈول ہیں، تاہم صدر ووچیچ نے حالیہ مہینوں میں عندیہ دیا ہے کہ وہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔
نوی ساد یونیورسٹی کی پروفیسر سانجا بیلچ نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد اور شفاف انتخابات کے بغیر جمہوریت محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو آزادانہ طور پر اپنی رائے کے اظہار کا حق دیا جائے۔
احتجاج میں شریک پچاس سالہ گوران ساجن نے کہا کہ اب عوام کے پاس اپنی آواز بلند کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شہری خاموش رہے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔
مظاہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت پر انتخابی دھاندلی، سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد، میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے، بدعنوانی اور منظم جرائم سے روابط جیسے سنگین الزامات بھی عائد کر رہی ہیں۔ تاہم صدر ووچیچ اور ان کے اتحادی ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپوزیشن سیاسی فائدے کے لیے جھوٹے الزامات لگا رہی ہے۔
ادھر صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ایک براہ راست ٹیلی ویژن خطاب میں اعلان کیا کہ ان کے حامی 27 جون کو ایک بڑے اجتماع کا انعقاد کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غصے اور نفرت سے گریز کرتے ہوئے سربیا کے قومی پرچم تلے متحد ہوں۔
