وزیراعظم شہباز شریف کا برگن اسٹاک سمٹ سے خطاب، ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا

سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں جاری لیک لوزن سمٹ کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت اور سفارتی کوششوں کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا یہ اہم مرحلہ ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے اس موقع کو عالمی امن کے لیے ایک غیر معمولی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر تمام فریقین خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھیں تو دنیا میں اتحاد اور استحکام کی نئی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

لیک لوزن سمٹ کے کانفرنس ہال میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہی کی کوششوں کے نتیجے میں آج یہ اہم مذاکراتی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سفارتی عمل صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن اور استحکام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی تعاون پر یقین رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان نے نہ صرف ثالثی بلکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں بھی فعال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ بات چیت مثبت نتائج کی جانب پیش رفت کرے گی اور فریقین اعتماد سازی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب ہوں گے۔

شہباز شریف نے اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی ماحول پیدا کرنے اور مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سفارتی کوششوں میں بھی نمایاں قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جس سے مذاکراتی عمل کو تقویت ملی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور ان کی مشترکہ کوششوں سے آج یہ اہم مذاکراتی مرحلہ ممکن ہوا ہے۔

کانفرنس ہال پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں مصافحہ اور غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی، جسے سفارتی حلقوں میں مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے