ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی صورت اپنے یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور بالآخر امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتوں کو ایران کے اس حق کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سفارتی پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا مؤقف نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ ان کے بقول امریکی صدر پہلے یہ کہتے تھے کہ ایران کو یورینیم افزودگی کا حق حاصل نہیں ہے اور اسے اپنی سرگرمیاں محدود کرنا ہوں گی، تاہم اب امریکی مؤقف میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوزیشن میں مکمل 180 ڈگری تبدیلی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے امریکا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتا تھا اور یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ایران کو بعض بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں، لیکن اب امریکی قیادت یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ایران کے بعض جائز حقوق کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کے لیے یہ حقیقت تسلیم کرنا ناگزیر ہو گیا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور جوہری پروگرام سے متعلق قانونی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ مذاکراتی عمل اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ بات چیت میں شامل فریقین اس عمل کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔
ایرانی صدر نے داخلی سیاسی مخالفین اور شاہ پرست حلقوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر نہیں چاہتے کہ ملک ایک پرامن ماحول میں ترقی کرے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے۔ انہوں نے کہا کہ جو قوتیں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ درحقیقت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے راستے پر چل رہی ہیں اور ان کا مقصد ایران کو کمزور کرنا ہے۔
