اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور حزب اللہ کے خلاف اپنی پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، خواہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کوئی بھی سفارتی پیش رفت سامنے آئے۔
یروشلم میں اپنے بھائی یونی نیتن یاہو کی ہلاکت کی پچاسویں برسی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ جب تک وہ وزیراعظم ہیں، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے جو بھی سفارتی پیش رفت ہو، اسرائیل اپنے بنیادی قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا مقصد اس فوری خطرے کو ختم کرنا تھا جو ان کے بقول ایرانی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے لیے پیدا ہو رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل نے بروقت اقدامات نہ کیے ہوتے تو ایران اب تک جوہری بم حاصل کر چکا ہوتا اور ممکنہ طور پر انہیں استعمال بھی کر چکا ہوتا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل نے اپنی مہمات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ان کامیابیوں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے حوالے سے بھی دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل شمالی علاقوں کے شہریوں کے تحفظ کے لیے جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون میں اپنی موجودگی اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک ضرورت محسوس کی جائے گی۔
