عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید ساڑھے چار فیصد کی کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت کم ہو کر 68 ڈالر 65 سینٹ فی بیرل جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 71 ڈالر 52 سینٹ فی بیرل پر آگئی،ابوظبی بینچ مارک مربان کروڈ کی قیمت بھی کم ہوکر 67.50 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل قیمتیں جنگ سےپہلےکی سطح پرآچکیں،لیکن حکومت نے عوام کو ذرا بھر ریلیف نہ دینےکافیصلہ کیا،اگلے ہفتے بھی پیٹرول 299 روپے 50 پیسےاورہائی اسپیڈ ڈیزل 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر رہےگا۔
رواں سال 28 فروری کو ایران پرحملوں سےپہلےعالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 70 ڈالر 89 سینٹ،جبکہ امریکی خام تیل کا ریٹ 66 سے 70 ڈالر فی بیرل تھا،حکومت نے 16 فروری کو پندرہ روزہ ردوبدل کرتےہوئے پیٹرول کی قیمت 258 روپے 17 پیسےہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت275 روپے 70 پیسے مقرر کی تھی۔
عالمی منڈی میں جمعہ26 جون کوخام تیل کی قیمتیں مسلسل گرتے ہوئے 71 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ، تاہم دبئی خام تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل رہی،اگردبئی مارکیٹ کے ریٹ کو بنیاد بنایا جائے تو بھی سارےٹیکس اور ڈیوٹیز ملا کر پاکستان میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 268 روپے 55پیسے بنتی ہے جو موجودہ قیمت سے 42 روپے کم ہے،اگر اس میں درامدی تیار ڈیزل کا 10 فیصد فرق بھی شامل کیا جائے پھر بھی قیمت میں 16 روپے فی لیٹر کمی ہونی چاہیے تھی جو حکومت نے نہیں کی ۔
اس طرح پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تمام ٹیکسز ملا کر 42 روپےکم یعنی 256 روپے 52 پیسے بنتی ہے،اگر درآمدی تیار پیٹرول کی اضافی قیمت شامل کی جائےتو بھی 18روپےکا ریلیف بنتا تھا جو ہڑپ کر لیا گیا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویزملک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرایک پیغام میں کہا حکومت اب تک ڈیزل کی قیمت میں 200 اور پیٹرول کی قیمت میں 155 روپےفی لیٹر کمی کی ہجا چکی،ذرائع کےمطابق حکومت نےتیل کمپنیوں کےدباؤ پرقیمتیں کم نہیں کیں،جن کا دعویٰ ہےکہ گزشتہ ریلیف سےانہیں 104 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا
