لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل، لبنان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی فریم ورک معاہدے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے لبنان میں اسرائیلی موجودگی کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
بیروت سے عرب میڈیا کے مطابق اپنے بیان میں نعیم قاسم نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری کے لیے خطرناک ہے اور اس کے نتیجے میں وہ وقت دور نہیں جب لبنانی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کو لبنان کے مزاحمتی گروہوں، خصوصاً حزب اللہ، کو غیر مسلح کرنے سے مشروط کرنا ایک انتہائی خطرناک شرط ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ سہ فریقی فریم ورک معاہدہ دراصل لبنانی عوام سے ان کی قومی خودمختاری چھیننے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد اس معاہدے کی کوئی حقیقی حیثیت باقی نہیں رہتی۔
نعیم قاسم نے لبنانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنا مؤقف نہیں چھوڑا اور آئندہ بھی اپنی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
حزب اللہ کے سربراہ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرنے کی شرط شامل ہو، جبکہ لبنان میں اس معاہدے پر سیاسی اختلافات مزید گہرے ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
