پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ہندو اور سکھ برادری کے لیے شمشان گھاٹ کی غرض سے چار کنال اراضی فراہم کر دی۔
ترجمان دفتر وزیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور کے مطابق صوبائی وزیر صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے دو کنال اراضی ہندو برادری اور دو کنال سکھ برادری کے لیے باضابطہ طور پر حوالے کی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر نے کہا کہ مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ اقلیتیں معاشرے کا قابلِ احترام اور مساوی حقوق رکھنے والا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاستِ مدینہ کے اصولوں کے مطابق انصاف، مساوات اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
عدنان قادری کے مطابق اقلیتی عبادت گاہوں، مذہبی تہواروں اور فلاحی منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اقلیتی طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف، بیواؤں، یتیموں اور خصوصی افراد کے لیے مالی معاونت بھی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی برادری کی بحالی کے لیے 200 ملین روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے، جبکہ کیلاش کمیونٹی کی ترقی کے لیے 100 ملین روپے کا خصوصی فنڈ بھی مختص کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اقلیتی قبرستانوں، شمشان گھاٹوں اور عبادت گاہوں کے لیے اراضی کی فراہمی، عبادت گاہوں کی سولرائزیشن اور بحالی کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ ان کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر کمیٹیاں فعال ہیں، جبکہ اقلیتوں کے سماجی، تعلیمی، معاشی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
دوسری جانب، ہندو اور سکھ برادری کے نمائندوں نے خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو تاریخی اور خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
