گرینڈ مصلیٰ تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ، سرخ پرچموں اور بدلہ لینے کے احتجاجی نعروں سے فضا گونج اٹھی

ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے موقع پر گرینڈ مصلیٰ مذہبی کمپلیکس میں ہزاروں سوگوار جمع ہوئے، جہاں فضا سوگ، جذبات اور احتجاجی نعروں سے گونج اٹھی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ میں شریک افراد نے ہاتھوں میں سرخ پرچم اٹھا رکھے تھے، جنہیں ایران میں انتقام اور مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شرکاء نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے اور ’’امریکا مردہ باد‘‘ اور ’’انتقام، انتقام‘‘ کے فلک شگاف نعرے بلند کیے۔

رپورٹس کے مطابق جنازے کی آمد سے قبل بڑی تعداد میں خواتین بھی گرینڈ مصلیٰ کے احاطے میں موجود تھیں، جہاں وہ دیگر سوگواروں کے ساتھ آخری رسومات میں شرکت کے لیے جمع ہوئیں۔

اس سے قبل تہران کے مختلف میٹرو اسٹیشنز پر بھی شہریوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی، جو میٹرو سروس شروع ہونے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ نمازِ جنازہ میں بروقت شرکت کر سکے۔ حکام کی جانب سے تقریب کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک اور نقل و حرکت کے خصوصی انتظامات بھی نافذ کیے گئے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے