امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران سے متعلق متنازع بیانات دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اب امریکا کے ساتھ معاملات طے کرنے اور مذاکرات کا خواہاں ہے۔
امریکا کے یومِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی طاقت نے دنیا بھر میں اپنی برتری ثابت کی ہے اور ایران کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا، جس کے بعد ایرانی قیادت مذاکرات کی جانب مائل ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے انعقاد کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کی کوئی تفصیلات یا ثبوت پیش نہیں کیے۔
اپنی تقریر میں امریکی صدر نے وینزویلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایک ہی دن میں وینزویلا کو شکست دی، جبکہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں بھی امریکی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور متنازع دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں مارے گئے تھے۔
