اسلام آباد مفاہمتی عمل بحال کرنے کی کوشش، پاکستان اور قطر نے امریکا، ایران سے جنگ روک کر مذاکرات کی اپیل کردی

ترک خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں اور دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ جنگی کارروائیاں روک کر معاہدے کے تحت دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔

انادولو نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ثالثی کے عمل سے باخبر پاکستانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور دوحہ مسلسل واشنگٹن اور تہران سے رابطے میں ہیں تاکہ دونوں فریق کشیدگی میں کمی لائیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر کی مشترکہ کوششوں کا مقصد موجودہ بحران کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال توقعات سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس ہے، تاہم دونوں فریق اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مکمل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔

پاکستانی ذرائع نے امید ظاہر کی کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود بحران مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کرے گا، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے آئندہ مزید محدود جھڑپوں کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ فوجی کشیدگی سے قبل امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کی اسلام آباد میں آئندہ ایک یا دو ہفتوں کے دوران تکنیکی مذاکرات کی ملاقات متوقع تھی، تاہم تازہ واقعات کے بعد یہ عمل مؤخر ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ثالثوں کی فوری ترجیح جنگی ماحول کو ختم کرنا اور دونوں ممالک کو دوبارہ سفارتی مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے، جبکہ پاکستان کو اب بھی امید ہے کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کی میزبانی اسلام آباد ہی کرے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے عمل کو متاثر کیا۔ ذرائع کے مطابق ایران کا مؤقف تھا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کے بعد ہی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کیا جائے، جبکہ واشنگٹن اس موقف سے اتفاق نہیں کرتا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے