پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل

پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ واقعات کے باعث علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشیدگی بڑھانے والے حالیہ واقعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پاکستان خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

بیان کے مطابق فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت  کے تحت وعدوں کی پاسداری کی جائے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں دیرپا امن و استحکام کیلئے پُرعزم ہے۔ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہرممکن تعاون جاری رکھیں گے۔

قبل ازیں ترجمان دفترخارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے سعودی سفیرنواف بن سعید احمد المالکی کی ملاقات ہوئی، جس میں علاقائی اورامن و استحکام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ جس میں بدلتی علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق سعودی سفیرسے ملاقات میں اسحاق ڈار نے مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کیلئے کوششیں مزید مستحکم کرنے پر زوردیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط کرنے کےعزم کا اعادہ کیا۔

ایرانی وزیرخارجہ سئ ٹیلیفونک گفتگو میں اسحاق ڈار نےکہا فریقین اسلام آباد ایم اویو کےتحت کشیدگی میں کمی اورتحمل کا راستہ اختیارکریں۔ کہا تنازعات کے حل کا واحد قابل عمل راستہ مذاکرات اورسفارتکاری ہے۔

واضح رہے کہ امریکی فوجی کی مرکزی کمان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے تیسرے مرحلے میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے