پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں۔ 13 جولائی 1931 کو ڈوگرا راج کےخلاف احتجاج کے دوران تکمیل اذان کیلئے 22 کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ 95 برس بعد بھی مقبوضہ کشمیرمیں وہی ظلم وستم جاری ہیں۔
آج دنیا بھر میں کشمیری یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں، 1931 میں آج کے روز کشمیری مسلمانوں ںے سنٹرل جیل سرینگر کے باہرجذبہ ایمانی کی عظیم مثال قائم کی۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے مظالم کے خلاف احتجاج کے دوران ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو ایک نوجوان اٹھ کر اذان دینے لگا۔
ڈوگرا فوج نے اذان دینے والے نوجوان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی، مظاہرین میں شامل ایک اور نوجوان نے آگے بڑھ کر اذان جاری رکھی۔ ایک کے بعد ایک اذان کی تکمیل تک 22 کشمیریوں نےجام شہادت نوش کیا۔
ڈوگرا راج کے ظلم و ستم مودی راج میں بھی جاری ہیں، یوم شہدا سے پہلے ہی تمام حریت رہنماؤں کو پابند سلاسل کیا گیا، جبکہ لواحقین کو شہدا کے قبرستان تک جانے کی بھی اجازت نہیں ملتی۔ 95 برس پہلے 22 کشمیریوں نے آزادی کا جو شمع روشن کیا تھا وہ اب جدوجہد آزادی کشمیر کی صورت میں ایک ہمہ گیر تحریک بن چکی ہے۔
