درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کیلئے حکومت نے ریفائنریز کی اہم تجویز منظور کرلی۔
حکومت نے 2023 کی براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی میں اہم ترامیم کا فیصلہ کرلیا، اپ گریڈیشن مشینری یا مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد ہوا تو اسے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
حکومت نے اس سال بجٹ میں ریفائنریز کو زیرو ریٹڈ شیڈول سے نکال دیا تھا، اپ گریڈیشن کے لیے مشینری کی درامد پر کسٹم ڈیوٹی صفر ہوگی۔ ذرائع کے مطابق پالیسی میں تبدیلیاں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری راغب کرنےکیلئے کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت مکمل کرلی، براؤن فیلڈ پالیسی کی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوا دی گئی، اپ گریڈیشن کی مقررہ مدت پر عمل نہ کرنے والی ریفائنریز کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یورو فائیو معیار کا ایندھن تیار کرنے کے لیے ریفائنریز کو مراعاتی پیکج دینے کی سفارش کی گئی ہے، ریفائنریز کو ملکی بینکوں میں فارن کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔
ریفائنریز کی اپ گریڈیشن آئندہ 3 سے 5 سال میں مکمل کرنے کا ہدف ہے، اپ گریڈیشن کے بعد ملک میں ڈیزل کی 100 فیصد مقامی پیداوار ممکن ہونے کی توقع ہے۔
ریفائنریز کی اپ گریڈیشن میں 70 فیصد سرمایہ کاری نجی شعبہ کرے گا، باقی رقم پیٹرول و ڈیزل پر ڈیم ڈیوٹی سے حاصل کرنے کی تجویز ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان میں استعمال ہونے والا تقریباً 70 فیصد پٹرول درآمد کیا جا رہا ہے، ریفائنریز کی اپ گریڈیشن سے درآمدی ایندھن پر انحصار اور زرمبادلہ کے اخراجات کم ہونے کی توقع ہے، اپ گریڈیشن کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کا امکان ہے۔
نئی پالیسی کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین خام تیل کی بنیاد پر کرنے کی تجویز ہے، موجودہ نظام میں قیمتوں کا تعین زیادہ تر تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی درآمدی قیمتوں پر کیا جاتا ہے۔
