سیوٹا میں 50 ہزار سے زائد تارکین وطن کی آمد، یورپی یونین منگل کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

شمالی افریقہ میں اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں 50 ہزار سے زائد تارکین وطن کی آمد کے بعد پیدا ہونے والے بحران پر یورپی یونین نے منگل کو وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں رکن ممالک ہجرت سے متعلق مشترکہ پالیسی اور سرحدی انتظام پر غور کریں گے۔

یہ فیصلہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے نمائندہ حکام اور فرنٹیکس (Frontex) بارڈر ایجنسی کے ماہرین کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اسپین کے مطابق سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران کم از کم 67 تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ بعض افراد سمندر میں ڈوب گئے جبکہ کئی بریک واٹر رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئے۔

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب رکن ممالک کے درمیان ہجرت اور سرحدی تحفظ کے معاملے پر اختلافات نمایاں ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں مشترکہ یورپی مؤقف اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دوسری جانب اسپین نے اعلان کیا ہے کہ سیوٹا میں غیر قانونی آمد تقریباً رک گئی ہے، کیونکہ مراکش کی سرحد پر 500 میٹر طویل تیرتی ہوئی سمندری رکاوٹ نصب کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مزید غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے۔

برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ وہ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز سے مسلسل رابطے میں ہیں اور برطانیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے