انقرہ: ترک پارلیمنٹ نے کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے ساتھ دہائیوں سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے ایک تاریخی بل منظور کر لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قانون سازی کو ترکیہ میں طویل عرصے سے جاری مسلح تنازع کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تنازع میں گزشتہ چار دہائیوں کے دوران دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
قومی و سماجی یکجہتی کے قانون کے عنوان سے پیش کیے گئے بل پر پارلیمنٹ میں تقریباً 12 گھنٹے بحث ہوئی۔
بل کو 468 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی۔ اس کے مقابلے میں 88 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
چھ ارکان ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔
منظوری کے بعد یہ قانون ترکیہ کی جانب سے PKK تنازع ختم کرنے کے لیے اب تک کے بڑے اقدامات میں شامل ہوگیا ہے
PKK نے ترکیہ کے خلاف چار دہائیوں سے زائد عرصے تک مسلح جدوجہد کی۔
اس تنازع کے دوران ترکیہ کے علاوہ عراق کے کرد علاقوں میں بھی تنظیم کی سرگرمیاں رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق PKK نے عراق کے کردستان ریجن میں اپنے بعض فوجی ٹھکانوں سے انخلا کیا۔
جولائی 2025 میں سلیمانیہ میں تنظیم کی جانب سے تخفیف اسلحہ کی ایک رسمی تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔
منظور شدہ قانون کا ایک اہم مقصد سابق PKK جنگجوؤں کو معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے میں مدد دینا ہے۔
قانون کے تحت ان افراد کو مخصوص دفعات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا جو متعلقہ حکام کو تحریری طور پر اپنی رضامندی سے آگاہ کریں گے۔
اس عمل کے لیے یہ تصدیق بھی ضروری ہوگی کہ PKK نے اپنی مسلح سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کر دی ہیں۔
اس کے علاوہ تنظیم کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی شرط بھی شامل ہے۔
