نائیجیریا میں 50 سے زائد مسلم اور مسیحی رہنماؤں نے بین المذاہب امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
یہ معاہدہ دارالحکومت ابوجا میں ایک تقریب کے دوران ہوا۔
اس کا مقصد ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینا ہے۔
معاہدے کے تحت مذہبی رہنماؤں کے درمیان تعاون کے لیے ایک نئی تنظیم بھی قائم کی گئی ہے۔
نائیجیریا کی آبادی 200 ملین سے زیادہ ہے۔
ملک میں مسلمان اور مسیحی بڑی مذہبی آبادی رکھتے ہیں۔
مسلمان زیادہ تر شمالی علاقوں میں آباد ہیں۔
مسیحی آبادی جنوبی علاقوں میں زیادہ ہے۔
ملک میں بعض لوگ روایتی مذاہب پر بھی عمل کرتے ہیں۔
نائیجیریا میں مذہبی صورتحال گزشتہ نومبر میں عالمی توجہ کا مرکز بنی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائیجیریا کو ایک ’’بدنام ملک‘‘ قرار دیا تھا۔
انہوں نے مسیحیوں کے ساتھ مبینہ سلوک پر فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔
ٹرمپ نے نائیجیریا میں سرگرم شدت پسندوں کو ’’اسلامی دہشت گرد‘‘ قرار دیا تھا۔
امن معاہدے پر بدھ کو ابوجا میں دستخط کیے گئے۔
یہ تقریب سعودی عرب میں قائم مسلم ورلڈ لیگ کی میزبانی میں ہوئی۔
معاہدے سے متعلق سرکاری بیانات میں ٹرمپ کے ریمارکس کا ذکر نہیں کیا گیا۔
تاہم ان ریمارکس کے بعد نائیجیریا میں سکیورٹی اور مذہبی ہم آہنگی پر توجہ بڑھی ہے۔
مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل محمد العیسیٰ نے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔
