وائٹ ہاؤس نے CNN کی رپورٹر کرسٹن ہومز کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک معاون سے متعلق سوال کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ واقعہ پیر کو اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران پیش آیا۔ تقریب میں ایک نوعمر لائف گارڈ کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔
کرسٹن ہومز نے ٹرمپ سے ان کی ایگزیکٹو اسسٹنٹ نیٹلی ہارپ سے متعلق سوال کیا۔ یہ سوال ڈیموکریٹک سینیٹر جون اوسوف کے حالیہ تبصرے کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ اوسوف نے ایک مہم کی تقریر میں ٹرمپ پر ہارپ کے ساتھ سفر کرنے اور اپنے سیاسی کام کے بجائے دیگر معاملات پر توجہ دینے کا الزام لگایا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے ہومز کے سوال کو نامناسب قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس کی ریپڈ رسپانس ٹیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہومز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پوسٹ میں رپورٹر کے سوال کو سخت الفاظ میں مسترد کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے اسے صدر کے خلاف ایک غیر ضروری حملہ قرار دیا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے بھی ہومز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے رپورٹر کو "انتہائی بے عزت” قرار دیا۔ ٹرمپ نے ایک موقع پر ہومز سے کہا کہ وہ بلند آواز میں بات کرتی ہیں اور انہیں خاموش رہنا چاہیے۔
انہوں نے CNN کو ایک بار پھر "جعلی خبریں” قرار دیا۔ CNN نے رپورٹر کا دفاع کیا CNN نے اپنی رپورٹر کے خلاف وائٹ ہاؤس کے ردعمل کو مسترد کردیا۔ نیٹ ورک نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کرسٹن ہومز کے ساتھ کھڑا ہے۔
CNN کے مطابق رپورٹر پر اس طرح کے حملے قابل قبول نہیں ہیں۔ یہ واقعہ امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے صحافیوں پر تنقید کے سلسلے کی ایک تازہ مثال ہے۔
