سعودی عرب نے وفا بنت عبداللہ المرزوقی کو امریکا کے شہر ہیوسٹن میں اپنا قونصل جنرل مقرر کردیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ وہ سعودی عرب کی پہلی خاتون قونصل جنرل بن گئی ہیں۔ وفا المرزوقی نے ریاض میں سعودی وزارت خارجہ کے ہیڈکوارٹر میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے سامنے اپنے نئے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ان کی تقرری سعودی سفارتی خدمات میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی اہم مثال قرار دی جارہی ہے۔ وہ ہیوسٹن میں سعودی قونصل خانے کے امور کی نگرانی کریں گی اور اپنے دائرہ اختیار میں سعودی شہریوں کو قونصلر خدمات کی فراہمی سمیت مختلف سفارتی ذمہ داریاں انجام دیں گی۔
حلف برداری کی تقریب سعودی وزارت خارجہ میں منعقد ہوئی، جس میں وزارت کے متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اسی تقریب میں ڈاکٹر سلطان بن فرراج النفیل نے بھی حلف اٹھایا، جنہیں عراق کے شہر اربیل میں سعودی عرب کا قونصل جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ حلف کے دوران نئے سفارت کاروں نے سعودی عرب، ریاستی اداروں اور مملکت کے مفادات سے وفاداری، سرکاری رازوں کی حفاظت اور اپنے فرائض دیانت داری اور ذمہ داری سے انجام دینے کا عہد کیا۔
وفا المرزوقی کی تقرری سعودی خواتین کی سفارتی شعبے میں بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی کرتی ہے۔ سعودی عرب میں حالیہ برسوں کے دوران خواتین نے سرکاری، سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ تاہم ایک خاتون کا قونصل جنرل کے عہدے پر تقرر سعودی سفارتی خدمات میں ایک نمایاں سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ ہیوسٹن میں قونصل جنرل کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد المرزوقی امریکا میں سعودی عرب کی قونصلر نمائندگی کرنے والی اہم ترین خواتین سفارت کاروں میں شامل ہوجائیں گی۔
