وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق حکم کا جائزہ لیا گیا ہے اور مشاورت کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کا کسی سرکاری اسپتال میں معائنہ کرایا جائے جس کیلئے فیصلے پر نظر ثانی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر یں گے ۔
تفصیلات کے مطابق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے حکم جاری کیا،حکم نامے کے دیگرنکات پر بھی مشاورت کی گئی ہے، جیلوں میں بہت سے قیدی ہیں جن کے صحت کے مسائل ہیں، سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج فراہم کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ
سپریم کورٹ نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیاہے جس میں بانی پی ٹی آئی کو 2 دن میں شفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیاہے ۔
حکمنامے کے مطابق شفاء اسپتال کے جنرل فزیشن، جنرل سرجن، آئی اسپیشلسٹ پر مشتمل بورڈ بنایا جائے،بورڈ میں کارڈیالوجسٹ، میڈیسن اسپیشلسٹ کو شامل کیا جائے جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ کوبھی میڈیکل بورڈ کےساتھ منسلک کیا جائے۔
شفاء انٹرنیشنل کے اخراجات بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ ادا کریں گے، آئندہ سماعت تک بانی کےاہل خانہ، پارٹی ارکان صحت کی تفصیلات نہیں بتائیں گے، ہفتے میں ایک دن بانی پی ٹی آئی کی اہلخانہ سے ملاقات کرائی جائے،
یقینی بنایا جائے کہ ہسپتال کے باہر کوئی سیاسی اجتماع نہیں ہو گا، بانی کی میڈیکل رپورٹس کو سیاست کیلئےاستعمال نہیں کیا جائےگا، یقین دہانیوں کی خلاف ورزی ہوئی تو دیا گیا ریلیف واپس ہوسکتا ہے، حکومت کولگےکہ ریلیف کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو درخواست دے سکتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور انکے اہلخانہ بھی شکایت کی صورت میں درخواست دے سکتے ہیں۔
عدالت نے حکومت کو ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دیا اور عمران خان کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دیاہے ۔ مقدمہ کی مزید 16 ستمبر کو ہوگی۔
