ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے سمندری آمدورفت پر کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق کمیٹی نے مجوزہ قانون کے آرٹیکل 3 کی منظوری دی۔ اس قانون کا مقصد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے ایک نیا فریم ورک قائم کرنا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق فیس مختلف خدمات کے عوض وصول کی جائے گی۔ ان میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی نیویگیشن، ایندھن، انشورنس اور سیکیورٹی خدمات شامل ہیں۔ دیگر متعلقہ خدمات پر بھی فیس عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ فیس ان ممالک کے جہازوں سے وصول ہوگی جنہیں ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی کے مطابق فیس ایرانی ریال میں وصول کی جا سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے مقرر کردہ دیگر کرنسیوں میں بھی ادائیگی ممکن ہوگی۔
