شام نے اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے کہا ہے کہ مذاکرات شام کی سرزمین سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال کو ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھے۔
اسد الشیبانی نے کہا کہ شام کی پہلی ترجیح اسرائیلی حملے روکنا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔ شامی وزیر خارجہ نے یہ بات دمشق میں رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہی۔ یہ انٹرویو اسرائیل کی جانب سے شامی فوجی اڈے پر حملے کے چند دن بعد سامنے آیا۔
اسد الشیبانی کے مطابق ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سیکیورٹی مذاکرات معطل ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔ تاہم شامی وزیر خارجہ نے مذاکرات کی بحالی کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ رابطہ ضروری ہے۔ تاہم یہ رابطہ نتیجہ خیز بھی ہونا چاہیے۔اسد الشیبانی نے واضح کیا کہ شام کو فی الحال اسرائیل پر اعتماد نہیں ہے۔
