آئی ایم ایف نے گیس کی قیمتوں میں کمی کی مخالفت کردی

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے گیس کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی اختیار کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صارفین کے لیے ٹیرف میں کمی سے گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) اور اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (SBA) کے جائزوں کے دوران گیس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے ٹیرف ڈیفرینشل کا نوٹس لیا، جو گردشی قرضے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے اوگرا آرڈیننس 2002 میں مزید ترامیم کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حکومت کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے طے کردہ قیمتوں کے مقابلے میں گیس کے نرخ کم کرنے سے روکا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق حکومت سے یہ عہد بھی لیا گیا کہ اوگرا کی جانب سے قیمتوں کے تعین کے بعد صارفین کے لیے گیس کے نرخ مقررہ مدت کے اندر نظرثانی کیے جائیں گے اور اس حوالے سے آئی ایم ایف کو عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے مطالبے پر اوگرا آرڈیننس 2002 میں مارچ 2022 میں قانون سازی کے ذریعے ترمیم کی گئی تھی۔ اس کے تحت اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اوگرا کے تعین کے مطابق گیس کی قیمتوں میں بروقت ردوبدل کیا جائے گا تاکہ گردشی قرضے میں مزید اضافہ نہ ہو۔

بجلی کے شعبے کے برعکس جہاں ٹیرف ڈیفرینشل پورا کرنے کے لیے حکومت بجٹ میں سبسڈی مختص کرتی ہے، گیس کے شعبے میں کم آمدنی والے گھریلو صارفین کو تحفظ دینے کے لیے کراس سبسڈی کا نظام نافذ ہے۔

اس نظام کے تحت دیگر صارفین، بالخصوص صنعتی اور تجارتی شعبے، کے نرخ نسبتاً زیادہ رکھے جاتے ہیں تاکہ گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔پاکستان کے گیس سپلائی نظام میں بنیادی طور پر دو بڑے حصے ہیں: گیس کی پیداواری لاگت یا ویل ہیڈ قیمت اور صارفین کے لیے مقررہ ٹیرف۔

اوگرا آرڈیننس 2002 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق صارفین کے ٹیرف کے تعین کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے