راولپنڈی کے حنا جاوید قتل کیس نے ہائی پروفائل کیس کی حیثیت اختیار کر لی۔ پولیس کے بعد پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب بھی متحرک ہو گیا اور سینئر پراسیکیوٹرز پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی، تفتیش کو سائنسی اور جامع بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی گئی۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عرفان صادق تارڑ نے کیس کی مؤثر پیروی کی ہدایت کی ہے۔ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی میاں عمران رحیم کی زیر صدارت اجلاس میں تفتیشی پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں تفتیش کو سائنسی اور جامع بنیادوں پر آگے بڑھانے اور تمام ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے لائن آف انکوائری جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ پولیس کے مطابق شواہد کی حفاظت، چین آف کسٹڈی اور قانونی تقاضوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد جامع چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر حنا جاوید کو قتل کیا۔حنا جاوید کی لاش گھر کے واش روم میں شاور سے پھندے کے ساتھ لٹکی ملی تھی۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور منہ سے خون اور جھاگ بھی نکل رہا تھا۔کیس میں شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم گرفتار ہیں، جبکہ مقتولہ کے سسر کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
