ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق جیل سے گھر منتقل ہونے کی شرائط پوری کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے وکلا کے مطابق ایک اہم شرط 50 ملین ملائیشین رنگٹ جرمانے کی ادائیگی ہے۔یہ رقم تقریباً 12 ملین ڈالر بنتی ہے۔
نجیب کے وکلا نے کہا کہ جرمانے کی ادائیگی مکمل طور پر ان کے اختیار میں نہیں۔ان کے مطابق نجیب کے کئی اثاثے، بینک اکاؤنٹس اور جائیدادیں منجمد ہیں۔یہ کارروائیاں حکومتی احکامات اور جاری قانونی مقدمات کے تحت ہوئی ہیں۔وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں رقم کا انتظام کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
ملائیشیا کے بادشاہ سلطان ابراہیم نے 18 ستمبر کو نجیب رزاق کو مشروط شاہی معافی دی۔اس فیصلے کے تحت انہیں باقی سزا گھر میں پوری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔یہ اجازت 23 اگست 2028 تک مؤثر ہوگی۔تاہم نجیب کو 50 ملین رنگٹ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں مشروط معافی منسوخ ہو سکتی ہے۔ نجیب اگست 2022 سے کاجنگ جیل میں قید ہیں۔
ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق ہاؤس اریسٹ کی شرائط پوری کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ وکلا کے مطابق 50 ملین رنگٹ جرمانہ ادا کرنا اہم شرط ہے۔
