پاکستان کا پام آئل کا سالانہ درآمدی بل 3 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ خوردنی تیل کی درآمد کم اور مقامی پیداوار بڑھانے کیلئے حکومت نے دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ تیار کرلیا۔ 5 سالہ شارٹ ٹرم پلان سے 3 ارب 45 کروڑ ڈالراور لانگ ٹرم پلان سے 7 ارب ڈالر سے زائد درآمدی بچت کا تخمینہ لگایا گیا۔
پاکستان میں خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر بچانے کی پالیسی تیار کرلی گئی، حکومت نے درآمدی بل گھٹانے اور مقامی پیداوار بڑھانے کیلئے دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ بنا لیا۔
وزارت غذائی تحفظ کی دستاویز کے مطابق پہلے مرحلے میں 2026 تا 2031 شارٹ ٹرم پلان پر کام ہوگا۔ سورج مکھی، کینولا، تل اور سویا بین کی پیداوار بڑھائی جائے گی۔ شارٹ ٹرم منصوبے سے 3 ارب 45 کروڑ ڈالر مالیت کی درآمدی بچت کا تخمینہ ہے۔ منصوبے کے تحت تقریباً 967 ارب روپے کے معاشی فوائد حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
دوسرے مرحلے میں 10 سالہ لانگ ٹرم پلان کے تحت قابل کاشت رقبہ بڑھانے کی تجویز ہے۔ لانگ ٹرم منصوبے سے 7 ارب ڈالر سے زائد درآمدی متبادل فوائد حاصل ہونے کا امکان جبکہ تقریباً 1965 ارب روپے کی معاشی سرگرمی کی توقع ہے۔
سورج مکھی کی پیداوار 20 لاکھ ٹن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ قومی آئل سیڈ پالیسی کے تحت درآمدی خوردنی تیل پر 40 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
پاکستان کا پام آئل کا سالانہ درآمدی بل 3 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا۔ ملکی ضرورت کا صرف 10 فیصد خوردنی تیل مقامی طور پر پیدا جبکہ 90 فیصد درآمد کیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر اشیائے خورونوش کا سالانہ درآمدی بل بھی 7 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ کثیر زرمبادلہ بچانے کیلئے مقامی پیداوار بڑھا کر درآمد پر انحصار کم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
