نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کرنے کی کوشش خطرناک اقدام ہے۔ مذاکرات اور سفارتکاری ہی طویل مدتی تنازعات کا واحد حل ہیں۔ دفاعی طاقت سے طویل مدتی تنازعات حل نہیں ہوسکتے۔
او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں وکشمیر سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ کشمیری عوام8دہائیوں سے اقوام متحدہ کے تحت حق خودارادیت کے منتظر ہیں، ہندوستان5اگست2019کےغیرقانونی اقدامات سےمقبوضہ کشمیر کی آبادی کاتناسب بدلنا چاہتاہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کیلئے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرکی مسلسم تہذیبی، مذہبی شناخت کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کررہاہے، مقبوضہ وادی میں صحافیوں کی آوازدبائی جارہی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مئی2025کاپاک بھارت تنازع یقین دہانی ہےکہ مسئلہ کشمیرکوحل نہ کرنا کتنا خطرناک ہے، ہندوستان نے بغیر تحقیقات پاکستان پر بےبنیاد الزامات لگائے اور ملٹری جارحیت کی، پاکستان نے یواین چارٹرکے آرٹیکل51کےتحت اپنے دفاع میں ذمہ دارانہ،متوازن جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کرنےکی کوشش خطرناک اقدام ہے، سندھ طاس معاہدہ عالمی پابند معاہدہ،کوئی ملک یکطرفہ اسےمعطل نہیں کرسکتا، دفاعی طاقت سےطویل مدتی تنازعات حل نہیں ہوسکتے، مذاکرات اور سفارتکاری ہی طویل مدتی تنازعات کا واحدحل ہیں۔
