ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا خطے کے مسلم ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق واشنگٹن کا مقصد خطے کے وسائل پر اثر و رسوخ قائم کرنا ہے۔پزشکیان نے یہ بات ایک عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا۔
ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات کی۔انہوں نے کہا کہ اس تنازع کا مستقل حل فوجی طاقت سے نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق مذاکرات ہی اس مسئلے کا حل فراہم کرسکتے ہیں۔ایران نے حالیہ دنوں میں ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز بھی دی ہے۔ تہران نے امریکی فوجی دباؤ کم کرنے اور ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے کو اس تجویز سے جوڑا ہے۔
مسعود پزشکیان نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں پر بھی بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے دونوں فریقوں سے اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایران دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
پزشکیان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے امریکی حملوں اور پابندیوں سے باہمی اعتماد متاثر ہوا ہے۔تازہ انٹرویو میں بھی ایرانی صدر نے کہا کہ تہران کو واشنگٹن پر اعتماد نہیں رہا۔ ان کے مطابق پاکستان اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ رابطے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر جاری ہیں۔پزشکیان کے مطابق امریکا کو اس مفاہمت کے بارے میں اپنا واضح مؤقف پیش کرنا ہوگا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے۔انہوں نے بیرونی طاقتوں کے بجائے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون پر زور دیا۔پزشکیان نے کہا کہ ایران کشیدگی کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
