لاہور کےعلاقے ڈیفنس میں غیرملکی لڑکی سے مبینہ زیادتی کے واقعےمیں پولیس نے تین ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کےمطابق تینوں افراد کو سہولت کاری کےشبےمیں حراست میں لیاگیاہے،پولیس نے مرکزی ملزم کےرشتہ دار کےگھر سےوقوعہ میں استعمال ہونےوالی گاڑی برآمد کرلی,لڑکی کا ابتدائی میڈیکل بھی کرا لیاگیا۔
تفتیشی ذرائع کےمطابق متاثرہ لڑکی کی ٹریول ہسٹری بھی سامنے آگئی ہے،لڑکی مارچ اورمئی میں دو مرتبہ پہلےپاکستان آچکی ہے،لڑکی 4 مارچ کو تاشقند سے لاہورآئی اور 20 مارچ کو باکو روانہ ہوئی،دوسری مرتبہ 22 مئی کو باکو سے پاکستان آئی، جبکہ تقریباً 15 روز قبل وہ تیسری بار لاہور پہنچی۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ غیرملکی لڑکی کپڑے کےکاروبار کےسلسلے میں لاہور اورفیصل آباد آتی جاتی رہی ہے اور وہ اردو زبان سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا کہ غیرملکی لڑکی کا کئی لوگوں سے ملنا جلنا تھا، لڑکی کی پنجاب اسمبلی میں موجودگی کی تصویر بھی سامنے آئی،پولیس واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے۔
