پاکستان اورآئی ایم ایف کےدرمیان قرض پروگرام کی اگلی قسط کےلیےمذاکرات جاری ہیں،حکومت سرکاری اداروں سےمتعلق قوانین میں ترامیم کی چوتھی ڈیڈلائن بھی پوری نہ کرسکی،جس پر آئی ایم ایف نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کےمطابق مذاکرات میں سرکاری اداروں سےمتعلق قوانین کو مرکزی ایکٹ سےہم آہنگ کرنے کے معاملے پربھی بات چیت ہوئی،حکومت نےقوانین میں ترامیم کیلئےایک بارپھر نئی ڈیڈ لائن لےلی ہے، آئی ایم ایف نے ترامیم نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کاکہناہےکہ آئی ایم ایف نےواپڈا میں مؤثرگورننس ماڈل نہ ہونےپربھی تشویش کااظہارکیااورگورننس ڈھانچےمیں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
مذاکرات میں نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل کوشفاف بنانےکیلئےپیشرفت کا بھی جائزہ لیاگیا،نیب چیئرمین کی تقرری شفاف بنانےکیلئےاحتساب آرڈیننس میں ترمیم بھی زیرغور ہے۔
