امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے دوران گزشتہ تین ماہ میں 135 بحری جہازوں کو واپس موڑا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق اس عرصے میں چار تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 10 آئل ٹینکروں کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق تازہ کارروائی خلیجِ عمان میں کی گئی۔ امریکی لڑاکا طیارے نے پاناما کے پرچم تلے سفر کرنے والے تجارتی جہاز ایم وی اوشن مولیکا کو نشانہ بنایا۔ یہ جہاز اریکا سن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق طیارے نے جہاز کے پچھلے حصے پر انتہائی درست نشانہ لگانے والا گولہ بارود استعمال کیا۔ اس کارروائی سے جہاز کا انجن اور آگے بڑھنے کا نظام ناکارہ ہوگیا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا۔ جہاز کی نقل و حرکت روکنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔
امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ جہاز کے عملے نے متعدد وارننگز کو نظرانداز کیا۔ اس کے بعد جہاز نے بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔
سینٹ کام کے مطابق جہاز اس سے پہلے ایران کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو ایران کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے نفاذ کا حصہ قرار دیا ہے۔
سینٹ کام کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں 135 بحری جہازوں کو واپس موڑا گیا۔ چار تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا۔ امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک 10 آئل ٹینکروں کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
تاہم، فراہم کردہ رپورٹ میں چاروں تجارتی جہازوں اور 10 آئل ٹینکروں کی الگ الگ تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ امریکی فوج نے ان کارروائیوں کو ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل درآمد سے جوڑا ہے۔یہ تمام اعدادوشمار امریکی فوج کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کے حوالے سے آزادانہ تصدیق کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
