یورپی یونین کی روس کے خلاف تقریباً 1600 نئی پابندیوں کی منظوری

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے روس کے فوجی اور صنعتی شعبے سے منسلک تقریباً 1600 افراد اور اداروں پر نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کیلس نے پیر کو اس فیصلے کا اعلان کیا۔

یورپی یونین کی کونسل کے مطابق نئی پابندیوں کی فہرست میں روسی فوجی صنعتی شعبے کی 826 کمپنیاں اور ان کمپنیوں کے 743 سربراہان شامل ہیں۔ یہ روس کے خلاف پابندیوں کی فہرست میں 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے بعد ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

کاجا کیلس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ نئی پابندیوں میں سے نصف سے زیادہ کا تعلق بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے سلسلے سے ہے۔ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد روس کے لیے یوکرین کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تیاری کو مشکل، سست اور مہنگا بنانا ہے۔

یورپی یونین کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیاں میزائلوں، بغیر پائلٹ طیاروں اور جنگی طیاروں کے لیے اہم پرزے فراہم کرتی ہیں۔ ان میں الیکٹرانکس، ریڈار، نیویگیشن سسٹم اور گولہ بارود سے متعلق شعبے بھی شامل ہیں۔

لکسمبرگ میں یورپی یونین کی خارجہ امور کونسل کے اجلاس کے موقع پر کاجا کیلس نے روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقوں میں ہونے والے انتخابات کا معاملہ بھی اٹھایا۔

یورپی یونین کی کونسل نے ان علاقوں میں روسی ریاستی دوما کے انتخابات میں امیدواروں یا انتخابی کمیشن کے ارکان کے طور پر شامل 77 افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ یورپی یونین ان انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

کاجا کیلس نے کہا کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ماسکو کے خلاف پابندیاں نرم کرنے کے بجائے دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے امریکا پر بھی زور دیا کہ وہ روس کے خلاف پابندیوں میں یورپی یونین کے ساتھ مزید ہم آہنگی پیدا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے اقدامات میں ہم آہنگی سے روس پر دباؤ زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

یورپی یونین کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد روس کی فوجی صنعتی صلاحیت محدود کرنا اور یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی اس کی استعداد کو متاثر کرنا ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے